بچے کو ذہانت ورثے میں کس سے ملتی ہے؟ ماں یا باپ؟ دلچسپ معلومات

0
1,577 views
ذہانت
Spread the love
جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے جاتے ہیں ویسے ویسے ان میں عقل و شعور بھی بتدریج بیدار ہونے لگتا ہے۔ پہلے وقتوں میں اگر بچوں کو کوئی کام یا بات یا سمجھانے میں مشکل ہوتی تھی لیکن آج کل کےدور کے تین سے چار سال کی عمر کےبچے ذہین اور کافی سمجھدار دکھائی دیتے ہیں۔
بچوں کی کامیاب زندگیوں میں ان کے والدین کا بہت ہی اہم کردار ہوتا ہے لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ اولاد کو وراثت میں ملنے والی ذہانت باپ کی جانب سے ہوتی ہے یا ماں کی طرف منتقل ہوتی ہے؟
اس تحقیق میں اس سوال کا جواب بتایا گیا ہے جس کے تحت بچوں کو اپنی ذہانت کے لیے  اپنی ماں کا مشکور ہونا چاہیے۔

مزید پڑہیے: پاکستانی خواتین میں ڈلیوری کے دوران سی سیکشن میں اضافہ، پاکستان اور یورپ میں خواتین کی ڈلیوری میں جانیے بنیادی طور پر کیا فرق ہے؟


عام حالات میں تو یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اولاد کو ذہانت باپ اور ماں دونوں سے ہی منتقل ہوتی ہے مگر اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کچھ مخصوص جینز ہیں جو مختلف طریقے سے اپنا کام کرتے ہیں، اور ان کے ہر فعل کا انحصار اس امر پر ہوتا ہے کہ وہ باپ کی جانب سے ہیں یا ماں کی جانب سے۔
ذہانت کی ذمیدار جینز ایکس میں موجود ہوتے ہیں اور چونکہ مردوں کے جسم میں صرف ایک کروموسوم جبکہ خواتین میں 2 ایکس کروموسومز موجود ہوتے ہیں، تو اسی وجہ سے بچوں کے اندر ماں کی طرف سے ذہانت کی منتقلی کے امکانات دگنے ہوجاتے ہیں۔
دوسری طرف تحقیق سے یہ بھی  معلوم ہوا ہے کہ باپ کی ذہانت کے جینز غیرفعال ہوتے ہیں۔
اسکے علاوہ لوگ یہ بھی خیال کر تے تھے کہ ماں ہی بچے کواس دنیا میں لاتی ہے اور ماں ہی بنیادی طور پر اس  بچے کی نگہداشت کرتی ہے جس کی وجہ سے بھی اولاد کی ذہانت کا بڑا سبب ماں ہی ہوتی ہے۔

یہ پوسٹ آپ کو کیسی لگی؟ نیچے کمنٹ لازمی کریں اور اپنی رائے دیں