چنے کی دال کے حیران کن فوائد اور طریقے جس سے گیس بلکل نہیں ہوگی۔ آیئے جانتے ہیں اس پوسٹ میں

0
663 views
چنے کی دال کے زبردست فوائد
Spread the love
دال ایک ایسی مرغوب غذا ہے جو ہر گھر میں بہت شوق سے کھائی جاتی ہے ان میں سے چنے کی دال بھی ایک ہے۔ اس دال کو  گوشت، شامی کباب میں اور کبھی انڈوں کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ مگر کھانے کے بعد اس کے کچھ اچھے اثرات مرتب نہیں ہوتے یعنی  پیٹ خراب ہو جاتا ہے اور گیس ہونے لگتی ہے اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ دال باآسانی ہضم نہیں ہوتی یعنی کافی دیر لگتی ہے اس کو ہضم کرنے میں۔ اگر آپ بھی ان مسائل سے دوچار ہیں تو اس پوسٹ کو ضرور پڑہیں کیونکہ اس میں دال پکانے کا ایسا طریقہ ہے جس کو جان کر آپ کے گیس کے مسائل حل ہوجائیں گے۔

طریقہ:

• چنے کی دال جب پکانے کا ارادہ کریں تو اس کے لیے اسے ایک رات پہلے بھگو دیں اور پھر اگلے دن جب چاہیں اس کو پکالیں۔
• چنے کی دال کیونکہ باآسانی گلتی نہیں ہے اس لئے اس کو پہلے ابالیں، اور پھر اس میں تھوڑا سا لہسن اور آئل ڈال کر اچھی طرح بھون لیں۔
• اچھی طرح بھننے کے بعد اب اس میں ضرورت کے مطابق پانی، پسا ہوا دھنیا، ہلدی، لہسن، پیاز، زیرہ، نمک اور سرخ مرچ ڈال کر ہلکی آنچ پر تقریباً آدھے گھنٹے کے لیے پکنے رکھ دیں۔
•آدھے گھنٹے تک پکنے کے  بعد جب اس کا پانی آدھا ہو  جائے تو دال میں چمچ چلانے کے ساتھ ساتھ اس میں پسا ہوا گرم مصالحہ ڈال دیں اور پھر 10منٹ کے بعد چولہا بند کردیں۔
• لیجیئے باآسانی اور فوراً پکنے والی آپکی چنا دال تیار ہے جو کھانے میں بھی لذیز ہے اور  پیٹ میں گیس بھی نہیں کرے گی۔
• باریک کٹا ہوا ہرا دھنیا دال پر گارنش کر کے  پیش کریں۔

دال کو کھانے سے پیٹ میں گیس کیوں ہوتا ہے؟

فائبر کی ذیادہ مقدار کا دال میں ہونا، گیس اور قبض ہونے کی اہم وجہ ہے۔

فوائد:

ذیابطیس کے مریضوں کے لیے:

شوگر کے مریضوں کو دال کا استعمال اس لیے کرنا چاہئے کیونکہ اس میں موجود اجزا خون میں شکر کی مقدار کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ہڈیاں مضبوط:

کیلشیم کی موجودگی دال میں ہماری ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اس کو کھانے سے نہ صرف دانت اچھے ہوجاتے ہیں بلکہ یورک ایسڈ کے مسائل سے بھی نجات ملتی ہے۔

جلد:

زنک اور اینٹی آکسائیڈینٹس کی موجودگی چنے کی دال جلد کو صاف اور تروتازہ بناتے ہیں اس کے علاوہ ہمارا مدافعتی نظام بھی مضبوط بناتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here