کمپیوٹر ایکسپرٹ اثناءجاوید دونوں بازوؤں سے محروم ہیں مگر دنیا کے لیے ایک مثالی نمونہ ہیں

0
274 views
دونوں بازوؤں سے محروم کمپیوٹر ایکسپرٹ، اثنا جاوید سب کیلئے مثال
Spread the love
زندگی میں چیلنجز کا سامنا ہر کسی کو ہوتا ہے۔ عام افراد کے نسبت جسمانی طور پر معذور افراد کے لئے یہ چیلنجز دُگنے اور زیادہ ہوجاتے ہیں۔ لیکن کہتے ہیں نا کہ اگر رب کائنات کسی میں اگر کوئی کمی رکھتا ہے تو کہیں نہ کہیں اسے بہت زیادہ سے بھی نوازتا ہے۔انہی میں سے ایک اثنا جاوید جیسی باہمت خاتون بھی شامل ہیں۔جوکہ پیدائشی طور پر ہاتھوں سے محروم ہیں۔مگر قابلیت میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں ۔ یہ ہاتھوں کے بجائے اپنے پیروں کی مدد سے لیپ ٹاپ چلاتی ہیں اور کمپیوٹر ایکسپرٹ ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ٹیکنولوجی کی دنیا میں اپنی ماہرانہ صلاحیتوں کو منوارہی ہیں اور ایک بین الاقوامی ادارے میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔
دونوں بازوؤں سے محروم کمپیوٹر ایکسپرٹ، اثنا جاوید سب کیلئے مثال
Image Source: VOA
وائس آف امریکہ (وی او اے) سے گفتگو کرتے ہوئے اثنا جاوید نے بتایا کہ ان کی زندگی ایک جدوجہد ہے۔ کیونکہ لوگ بازو نہ ہونے کی وجہ سے ان کی قابلیت پر شک کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لوگ پوچھتے ہیں آپ کوڈنگ کیسے کرتی ہیں ، آپ کے تو بازو نہیں ہیں؟ تو ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ کوڈنگ بازو سے نہیں دماغ سے کی جاتی ہے اور جب تک دماغ چل رہا ہے تو آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ ہماری صلاحیتوں کو نظر انداز کردیتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ ہم دیکھنے میں کیسے ہیں۔انہوں نے اپنی ملازمت کے بارے میں بتایا کہ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ڈس ایبل ہونے کی وجہ سے “آئی بی ایم “ میں جاب ملی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ معذور ضرور ہیں مگر باصلاحیت اور قابل ہیں جبھی یہ جاب کررہی ہیں۔ ان کے پاس ٹیلنٹ ہے اس لئے وہ عام لوگوں کی طرح اپنے ہاتھوں کے بجائے پیروں سے کمپیوٹر آپریٹ کرتی ہیں۔
دونوں بازوؤں سے محروم کمپیوٹر ایکسپرٹ، اثنا جاوید سب کیلئے مثال
Image Source: VOA
وی او اے سے بات چیت کہ دوران انہوں نے بتایا کہ ان کی اس محرومی کے بارے میں گھر میں کبھی کوئی بات نہیں کی جاتی اور اگر کوئی باہر والا ایسا کہہ دے کہ اثنا کے تو ہاتھ نہیں ہیں تو اس بات کو بہت برا سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ نے ان کو کبھی اس محرومی کا احساس ہی نہیں ہونے دیا۔ کبھی دوسروں پر انحصار کرنا نہیں سیکھایا بلکہ خودمختار بنایا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج وہ کسی بھی کام کے لئے دوسروں کی محتاج نہیں ہیں۔ چائے بنانے سے لے کر کمپیوٹر چلانے تک کا ہر کام وہ خود کرتی ہیں۔اثنا جاوید سمجھتی ہیں کہ دوسروں کو اس بات سے فرق نہیں پڑنا چاہیئے کہ آپ کیسے نظر آتے ہیں اصل میں اہم بات یہ ہے کہ جسمانی طور پر معذور انسان میں موجود ٹیلینٹ کو ترجیح دیں کہ اس میں کیا قابلیت ہے؟ کیا اسکلز ہیں؟ اور وہ کتنا آگے جاسکتا ہے؟
دونوں بازوؤں سے محروم کمپیوٹر ایکسپرٹ، اثنا جاوید سب کیلئے مثال
Image Source: VOA
اپنے بچپن کے بارے میں دوران گفتگو بتایا کہ ان کا بچپن بالکل نارمل بچوں جیسا ہی تھا۔ جس میں کھیل کود تھا۔ اور اپنا بچپن انہوں نے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر خوب انجوائے کیا ہے۔ مزید انہوں نے اپنے مستقبل کے پلان کے بارے میں بتایا کہ وہ چاہتی ہیں کہ وہ پاکستان میں زیادہ سے زیادہ خواتین کو ٹیکنالوجی کی طرف لائیں تاکہ وہ بھی اپنی صلاحیتیں منوا سکیں۔ اس کے علاوہ وہ دنیا گھومنے کا بھی کافی ذوق وشوق رکھتیں ہیں اور وہ اپنا یہ شوق اور خواب کو ضرور پورا کرنا چاہتی ہیں۔

پیدائشی طور پر دونوں بازوؤں سے محروم اثناجاوید ایک مثالی نمونہ ہیں۔جو کہ انتہاءی جدوجہد کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی اس محرومی کو کبھی اپنی کامیابی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ جسمانی طور پر معذور یہ افراد پاکستانی معاشرے کا اتنا ہی حصہ ہیں جتنا کہ عام لوگ، لیکن اگر انہیں خصوصی سہولیات مہیا کی جائیں تو وہ بھی عام لوگوں کی طرح زندگی گزار سکتے ہیں اور اس کے لیےضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان معذور افراد کے ٹیلینٹ کی نہ صرف قدر کریں بلکہ انہیں آگے بڑھنے کے مواقع بھی فراہم کریں تاکہ یہ بھی اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ہمارے قوم و ملک کا نام روشن کرسکیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here