تین دانے مکئی کے اردو تحریر

0
347 views
تین دانے مکئی کے
Spread the love
سبحان اللہ۔ اللہ تعالی کی شان ہے کہ تاریخ میں ایسے واقعات اسباق چھپے ہوتے ہوے ہوتے ہیں، کہ جو زندگی کے بہترین اصول سکھا دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ واقعات انسان کو اس کی زندگی میں پیش آنے والے کئی دیگر مقامات پر فائدہ مند ثابت ہو تے ہیں۔
ایک مرتبہ ایک عقلمند بابا نے تین آدمیوں میں تین تین مکئی کے دانے تقسیم کر دئیے، اور ان سے بولا کہ جاؤ ان سے اپنا گزاراہ چلاؤ۔ پہلے آدمی نے جا کر تینوں مکئی کے دانوں کو ایک گرم پانی کے پیالے کےاندر گھول دیا۔ اس نے انکا شوربہ بنایا اوراسے پی گیا۔ دوسرے آدمی نے پہلے آدمی کی بے صبری سے سبق سیکھا اور اپنے تیوں دانے جا کر باہر مٹی میں دبا آیا۔ ایک مہینہ بھر وہ ان کو پانی دیتا رہا اور ان دانوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کرتا رہا۔ جب ایک ماہ کے بعد اس نے دوبارہ اپنے پودے دیکھے توان میں اس وقت مکئی کے تین تنے بھی نکل چکے تھے۔ اس نے مکئی کے ان تینوں پودوں پر سے تمام خوشے اکٹھے کیے اور اپنا تین دن کا گزارہ چلا لیا۔
تین دن کی دو وقت کی روٹی کا سامان اس نے اس ایک ماہ کی محنت سے کی بدولت کر لیا۔ تیسرا آدمی چپ چاپ اپنے باقی دونوں دوستوں کی ان بیوقوفیوں کو دیکھتا رہا۔ اور ان سے سبق حاصل کرتا رہا۔اس نے تینوں دانے مٹی میں بو دیے اور ایک ان کی دیکھ بھال بھی کرتا رہا اور ایک ماہ بعد جب اس پر چھلیاں آگئیں تو اس نے وہاں ایک پودہ لگا رہنے دیا۔ اور دوسرے سے اس نے دانے اتار لیے اور پھر سے اسے زمین میں بو دیا۔ تیسرے پودے سے ایک چھلی اتاری اوروہ اس نے اپنی محبوبہ کو کھلادی اور تیسرے پودے سے جوچھلیاں اتاری تھیں وہ خود تھوڑی تھوری کر کے کافی دن تک چلا لیں۔ ایک ماہ بعد اس کے پاس پھر سے ڈھیر سارے پودے نکل آئےتھے۔
اور اسطرح اس نے مکئی کا ایک کھیت ہی لگا لیا۔ وہ یوں ہر مااہ اپنے اس کھیت کو مزید وسیع کرتا چلا گیا۔ کرتے کرتے اس نے گاؤں میں چھلیوں کا سب سے بڑا کھیت لگا لیا۔ اپنی اسی محبوبہ سے اس نے شادی بھی کرلی اوراپنی محنت اور اپنے چھلیوں کے کھیت کی وجہ سےوہ دوبارہ کبھی بھوکا نہیں سویا ۔تم نے اپنے اسباب پہ بھروسہ کیا اور، میں نے مسسب الاسباب پہ یقین۔ جب کہ ہم دونوں ایک ہی گاؤں کے رہنے والے تھے۔ لیکن ہم میں بہت بڑا فرق تھا۔ میرے پاس ایک ڈگری تھی ۔ میں انگلش اچھی بول سکتا تھا۔ لاہورمیں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت کرتا تھا۔

مزید پڑہیے: رزق کا یقین اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں

ملازمت بھی کیا غلامی ہی سمجھیں۔ ۔گاؤں جاتا تو لوگ مجھ پر رشک کرتےتھے۔ ابا جی اپنا سینہ چوڑا کر کے چلا کرتے۔لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے اپنا سینہ چوڑا کرنے کی قیمت میری غلامی کی مد میں ہے میرے دفتر کی اوقات صبح نو سے شام پانچ تھی۔ لیکن یہ توصرف کا‏غزات میں درج کیے جانے والے اوقات ہی تھے اصل۔حقیقت تو یہ تھی کہ میں اور میرے جیسے دوسرے لوگ ہمہ وقت ملازم ہی ہوتے ہیں ۔نوکری کے اوقات ختم ہونے کے بعد بھِی وہ نوکر ہی رہتے ہیں ۔ وہ کبھی کبھارتواپنا نام بھی بھول جاتے ہیں ۔ وہ ہی مصنوعی سی مسکراہٹیں اور مصنوعی سا ماحول ۔لیکن میرے ابا بہت خوش تھے ۔انھوں نے میری تعلیم کی خاطر جو زمین بیچی تھی وہ میرے بابو بن جانےبسے بطور قیمت وصول ہوئی تھی ۔
میں جب گاؤں جاتا تو مجھے مستقیم کا بھِی خیال آتا تھا ۔لاہور میں کبھی مجھے اتنا ٹائم ہی نہیں ملا تھا کہ اس سے کوئی رابطہ کرتا ۔ویسے بھی وہ بے چارہ ایک معمولی سےمدرسے کا فارغ التحصیل طالب علم لاہور میں آخر کیا کرلیتا؟ آخری بار سننے میں آیا تھا کہ وہ ایک نئی سوسائٹی میں جاکر بچوں کو قرآن پڑھاتا تھا ۔ اور ویسے بھیبے چارے مستقیم سے ملنے سے میرے کون سے کانٹیکٹ بن جانے تھے ۔اس بار میں جو گاوں گیا تو سوچا وہاں پرانے دوستوں سےہی ملاقات ہوجائَے ۔ویسے بھی تو یہ گاوں ہی وہ واحد جگہ تھی جہاں تھوڑی بہت ٹور بن جاتی تھی اور میرا بھرم رہ جاتا تھا۔
ہماری زندگی بھِی عجیب ہے ۔ ہم شہر اور گاوں ہر جگہ پہ اجنبی بن ہی جاتے ہیں ۔میں جب گھر سے نکلا تو دیکھا کہ سامنے سے مستقیم آرہا ہے۔ اسکے چہرے پہ وہی دوستانہ مسکراہٹ اوراسکی صحت پہلے سے بہت بہتر ۔ میری آنکھوں میں موجود کوے کے پنجوں کے نشان کافی گہرے ہوگئے تھے۔ بلکہ مجھے پتا نہیں کیوں ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے کوے نے چونچ بھی ماردی ہو ۔ دل تو چاہ رہا تھا کہ مستقیم بہت سی شکائِتیں کرے اورکہے کہ اس کا لاہور میں بہت مشکل سے گزارہ ہوتا ہے ۔میں ہی اس کی نوکری کا کہیں کوئی بندوبست کردوں تو وہ میرا بہت احسان مند ہوگا۔
اورپھر میں اس سے کہتا کہ ارے پگلے یہ تو کاروپوریٹ کلچر ہے نا ۔ تمہیں تو نوکری کیلیے اپنی داڑھی منڈوانی پڑے جاے گی ۔ اور تمہیں اس کیلیے خوب رگڑ رگڑ کر شیوبھی کرنی پڑے گی۔
اپنےٹخنوں سے اونچی شلوار کو اتار کر کریز والے ایک پتلون بھی پہننے پڑیں گی۔ کیا تم یہ سب کرلو گے ؟ اورپھر میں تمسخر سے اس پہ ہنسوں گا ۔ اورکہوں گا کہ اس سب کے لئے ایک اچھی ڈگری بھیِ ضروری ہے ۔ کاش تمہارے ابا جی بھِی تمہیں قران کی ڈگری کے بجائے کوئی اورڈگری دلا دیتے۔
مگر ہوا کچھ یوں کہ میں نے پوچھا کہ کیسے ہوتم مستقیم ؟ تو وہ بولا اللہ کا بہت کرم ہے ۔ میں نے سوال کیا کہ پھر کب آئے ہولاہور سے ؟ تو بولا بس جمعرات کو ہی آیا تھا ۔انشاللہ اتوار کو روانگی ہے ۔ جب پوچھا کہ کیا کر رہے ہوتم آج کل ؟ تو کہنے لگا کہ بس دو تین چھوٹی موٹی دکانیں لی ہیں میں نےجواب میں حیرت سے پوچھا ۔دکانیں ؟ مزید یہ کہ کس جگہ ؟ بولا کہ میری ایک دکان ارم شاپنگ مال جبکہ دوسری دکان فردوس شاپنگ مال اور تیسری گلاب مال میں ہے ۔مجھَے تو لگا وہ میرا مذاق اڑا رہا ہو۔۔ تو کیا تم نے قران پڑھانا چھوڑ دیا ہے؟نہیں بھائی اس نے کہا۔۔ یہ کام میں کیسے چھوڑ دوں۔
اللہ نے اسی کے ذریعے سے ہی تو میرا رزق کھولاہوا ہے ۔لیکن میں نے کہا کہ ان دو تین دکانوں کے لئَےتمھیں تو بہت سرمایہ چاہیئے۔ کہنے لگا کہ ۔بس اللہ نےہی بندوبست کردیا سارے کا سارا ۔برکت بھی دی ہے ۔ بس یہ سب اسہوی کا کرم ہے ۔لیکن کیسے ۔۔؟ کہا کہ بات یہ ہے میرے بھائی ۔۔اسکی ذات نے میرے کاندھے پے اپنا ہاتھ رکھا ۔۔تم نے تو اسباب پہ بھروسہ کیا تھا۔ جزاک اللہ اچھےانسان کو ہمیشہ ہی اللہ پاک پر بھروسہ کرنا چاہئے کیونکہ وہ اللہ پاک ہی ہے جو سب کا خالق و مالک ہیں۔

یہ پوسٹ آپ کو کیسی لگی؟ نیچے کمنٹ لازمی کریں اور اپنی رائے دیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here