جب انسان مرتا ہے تو اس کی آںکھیں کیوں کھلی رہتی ہیں؟

0
892 views
آںکھیں
Spread the love
یہ دنیا فانی ہے اور اس کی ہر شی کو بھی فانی ہے ۔مرنے کے بعد میت کی آنکھیں کیوں کھلی رہنے کا سائنسی تحقیق جو بھی نتیجہ اخز کرے لیکن ایک مسلمان کے لئے اس سے بڑی دلیل کیا ہوسکتی ہے کہ جو ہمارے آقائے دوجہاں نے دی تھی اور اس راز لا فانی سے پردہ اٹھایا تھا کہ جب کسی کا انتقال ہوتا ہے تو اسکی آنکھیں ایک ایسا منظر دیکھ رہی ہوتی ہیں جو زندوں یعنی اس کے اطراف کے لوگوں کو نظر نہیں آتا۔ مسلم اور ابن ماجہ کی روایات کے مطابق حضرت ابوسلمہؓکا جب اس دنیا سے رخصتی کا وقت آیا تورسول اللہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔
وہ جان کنی کے عالم میں تھے، پردے کے دوسری طرف عورتیں رورہی آپﷺ نے فرمایا۔
میت کی جان نکل رہی ہوتی ہے تو اس کی نگاہیں پرواز کرنے والی روح کا پیچھا کرتی ہیں، یعنی وہ آنکھیں اپنے آخری سفر کو طے کرنے والی منزل کو دیکھ رہی ہوتی ہیں، تم دیکھتے نہیں کہ آدمی مر جاتا ہے تو اس کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں۔
جب حضرت ابوسلمہؓ انتقال فرما گۓ تو آپ نے دست مبارک سے ان کی آنکھیں بند کر دیں۔آپ ﷺنے عورتوں کو تلقین کی کہ (میت پربین کرتے ہوئے) اپنے لیے بھلائی کی دعا ہی مانگیں، وہ اس لیے کیونکہ فرشتے مرنے والے اور اس کے گھر والوں کی ہر دعا یا بددعا پر آمین کہتے ہیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر حضرت ابوسلمہ کے لیے یوں دعا فرمائی۔
اے اللہ، ابوسلمہ کی مغفرت فرما اور اہل جنت میں ان کا مقام بلند کر دے۔ پس ماندگان میں ان کا قائم مقام ہو جا۔ اے رب العٰلمین، ہم سب کی مغفرت فرما۔ قبر میں ان کے لیے کشادگی کر دے اور اسے نور منور کر دے۔
حضرت ابوسلمہؓ دوسرے صحابہ کرام میں سے اوالین صحابہ تھے ،روایت ہے کہ رسول اللہ نے حضرت ابو سلمہؓ کی جنازے کی نماز کے دوران پہلی مرتبہ نو تکبریں کہی تھیں۔

مزید پڑہیے: عائشہ اعجاز دنیا کی تیزترین پاکستان کیلیگرافر


زندگی ایک سفر ہے اور انسان اپنی آخری منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ ہر آنے والی سانس عمر کو کم  کر رہا ہے۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغ ہونے کے بعد اپنے گھر کی طرف جانے کی فکر کرتے ہیں ، وہ کہیں اپنا دل نہیں لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض کو بھلا کر شہر کی رنگینیوں اور چمک دمک میں کھو جاتے ہیں۔
غرض یہ کہ ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے۔ یہ دنیا ایک امتحان کی جگہ ہے جسے ہمیں دے کر اللہ تعالیٰ کی طرف واپس لوٹ جانا ہے۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اس امتحان کو پاس کر آخرت میں فتح اور کامیابی حاصل کریں۔

یہ پوسٹ آپ کو کیسی لگی؟ نیچے کمنٹ لازمی کریں اور اپنی رائے دیں