اکثر جسم کا کوئی حصّہ سن ہوجانے کی وجہ سے اس میں سوئیاں چھبنے لگتیں ہیں، تو کیا یہ کوئی خطرے کی  علامت تو نہیں؟ آئیے جانتے ہیں اس پوسٹ میں

0
263 views
ہمیں اکثر جسم کے کسی حصے کے سُن ہونے پر سوئیاں چھبتی ہوئی کیوں محسوس ہوتی ہیں اور اسے روکنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ کیا یہ کسی خطرے کی علامت بھی ہوسکتی ہے؟
Spread the love
ہمیں اکثر جسم کے کسی حصے کے سُن ہونے پر سوئیاں چھبتی ہوئی کیوں محسوس ہوتی ہیں اور اسے روکنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ کیا یہ کسی خطرے کی علامت بھی ہوسکتی ہے؟
کیا آپ کبھی اپنے ہاتھ، پیر یا کسی اور حصے کے سن ہونے کے احساس کےمساءل سے دوچار ہوے ہیں؟ جو اکثر تھوڑا ہلانے جلانے پر ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے کسی نے اچانک سے آپ کے جسم میں کئی سوئیاں ایک ساتھ چبھو دیں ہوں یا پھر چیونٹیوں کا ایک گروہ آپ کے اس مخصوص حصے پر رینگ رہا ہو۔ طب اور سائنس کی دنیا میں اس قسم کی علامات کو پیریستھیزیا (paresthesia) کہا جاتا ہے۔
آپ کےجسم کا وہ حصہ جو سن ہوگیا ہو اور ہلانے جلانے پر اچانک سے تیز سوئی چبھنے جیسا محسوس ہوتا ہو جو کہ اکثر بہت تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔ یہ عموما اس وجہ سے ہوتا ہے کہ آپ کے جسم کے اس عضو میں خون کی گردش کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے وہ حصہ بے جان محسوس ہورہا ہوتا ہے جو دوبارہ حرکت دینے کی وجہ سے اس حصے میں ہلکی سی چبھن کا سبب بنتا ہے۔

مستقل طور پر پیریستھیزیا کا ہونا

اگر آپ میں سے کسی کو ایسے سن یا سوئیاں چبھنے کی شکایت کا احساس ہوتا ہے تو یہ کوئ دوسرے مسائل کا بھی سبب بن سکتا ہے۔ جیسے کہ کسی پرانی جسمانی چوٹ یا پھر کسی اور بیماری یا ٹیومر وغیرہ۔

پیریستھیزیا سے متعلق مزید کیا مسلے ہوسکتے ہیں؟

اکثر یہ شکایت تھوڑی سی حرکت کرنے کے بعد خود ہی ٹھیک ہوجاتی ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے کچھ دوسری اور دوسری بڑی تکالیف کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے جیسے کہ:
ہمیں اکثر جسم کے کسی حصے کے سُن ہونے پر سوئیاں چھبتی ہوئی کیوں محسوس ہوتی ہیں اور اسے روکنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ کیا یہ کسی خطرے کی علامت بھی ہوسکتی ہے؟

خون کی روانی کا متاثر ہونا:

چلنے پھرنے، گاڑی چلانے میں دشواری،گرنے کا خطرہ ہونا،تھکاوٹ اور کم نیند کے باعث غیر معمولی انداز میں سونا شامل ہیں۔

ان تکالیف کو کیسے کم کیا جائے؟

جب آپ کو ان تکالیف کا سامنا ہو تو اسے ورزش کر کے، ہلکے ہلکے کھینچ کر اور ہلکے ہاتھ سے مساج کر یں۔ لیکنا گر صورتحال سنجیدہ ہوجائے اور افاقہ نہ ہو تو ڈاکٹر کے پاس جائیں۔
ہمیں اکثر جسم کے کسی حصے کے سُن ہونے پر سوئیاں چھبتی ہوئی کیوں محسوس ہوتی ہیں اور اسے روکنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ کیا یہ کسی خطرے کی علامت بھی ہوسکتی ہے؟

کس صورت میں ڈاکٹر کو چیک اپ کروانا لازمی ہے؟

سانس لینے میں تکلیف کا ہونا،سن آہستہ آہستہ جسم کے دوسرے حصوں میں بھی پھیلتا محسوس ہو،جسم مکمل طور پر سو جاتا ہو،بولنے میں مشکل ہوتی ہو،بصارت میں تکلیف ہورہی ہو اور سر، گردن یا پیٹھ پر چوٹ لگنے کے بعد سن کی کیفیت محسوس ہوتی ہو تو ان حالات میں غفلت نہ کریں اور فورا ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here